کاروار 23 / جون (ایس او نیوز) گھریلو اور تجارتی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کے خلاف کرناٹکا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے 22 جون کو ریاست گیر ہڑتال منانے کا جو اعلان کیا تھا اس کا پورا اثر کاروار اور ہبلی دھارواڑ کے جڑواں شہروں میں دیکھنے کو ملا-
کاروار میں ہوٹل مالکان کی ایسوسی ایشن، رکشہ ، ٹیمپو یونین اور بی جے پی کی طرف سے اس بند کو مکمل حمایت دینے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد کل صبح سے شہر میں تمام دکانیں ، ہوٹل اور تجارتی ادارے بند رہنے کے علاوہ رکشہ اور ٹیمپو بھی سڑکوں سے غائب رہے ۔ اس کی وجہ سے طلبہ، مزدور اور مسافروں کو تکلیف اٹھانی پڑی ۔
بجلی کے دام میں اضافہ کے خلاف شہر کے سویتا سرکل پر جمع ہونے والے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور دیگر اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ مختلف تنظیموں سے وابستہ کارکنان نے شہر کے اہم راستوں سے احتجاجی ریالی نکالی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے روبرو پہنچ کر جلسہ منعقد کیا ۔ اس کے بعد ڈی سی پربھو لنگا کولیکٹّی کے توسط سے حکومت کو میمورنڈم پیش کیا ۔
ہبلی اور دھارواڑ کے جڑواں شہروں سے ملی رپورٹ کے مطابق وہاں بھی مکمل بند منایا گیا ۔ ہبلی شہر کے کوپیکر روڈ ، اسٹیشن روڈ، سی بی ٹی، مراٹھا گلّی جیسے مصروف تجارتی علاقوں میں پوری طرح سناٹا چھایا رہا ۔ اس کے علاوہ دونوں شہروں کے صنعتی علاقوں میں تمام ادارے بند رہے ۔
ہبلی میں احتجاجیوں نے ریالی نکالی جو اہم سڑکوں سے ہوتی ہوئی منی ودھان سودھا تک پہنچی جہاں پر تحصیلدار کی معرفت سے حکومت کو میمورنڈم پیش کیا گیا ۔
اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹکا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (کے سی سی آئی) کے صدر ونئے جاولی نے کہا کہ ہیسکام نے بجلی کی شرح نرخ میں جو حد سے زیادہ اضافہ کیا ہے اس کی وجہ سے صنعتی اداروں پر بھاری مالی بوجھ پڑا ہے ۔ اس سے کارخانوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوگی اور دوسری ریاستوں کے صنعتی اداروں کے ساتھ تجارتی مقابلہ آرائی کرنا اور قدم جمائے رکھنا مشکل ہوجائے گا ۔ اس سے چھوٹے صنعتی اداروں کو بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا ۔